23 دسمبر 2021

مارکیٹ تجزیہ

2021 کے بہترین اور بدترین کارکردگی دکھانے والے اسٹاکس

اسٹاک مارکیٹ کیلئے یہ ایک تاریخی سال رہا ہے۔ مارکیٹ نے ریٹیل ٹریڈرز اور سرمایہ کاروں کیلئے شاذ و نادر ہی اتنے شاندار فائدہ مندی کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ اور بہترین و بدترین کارکردگی دکھانے والے اسٹاکس کے درمیان اتنا زیادہ فرق بھی کبھی کبھار ہی دیکھنے کو ملا ہے۔ 

بلاشبہ، شاندار کارکردگی کا دارومدار نقطہ نظر اور خطرہ برداشت کرنے کی قوت پر ہوتا ہے۔ نیز وقت کے لحاظ سے آراء بہت زیادہ تبدیل بھی ہو سکتی ہیں۔ کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ جب ضرورت سے زیادہ بڑھا ہوا اسٹاک بالآخر مندی کا مظاہرہ کرنے لگے تو اس کے پاس وہ اسٹاک رکھا رہ جائے۔ 

لہذا آگے بڑھنے سے پہلے، یہ تنبیہ بھی نوٹ کر لیں۔ 

ذیل میں بیان کردہ اسٹاکس اس وقت آپ کے ٹریڈنگ پورٹ فولیو کیلئے مناسب ہوں یا نہیں اس بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی، یہ فیصلہ کرنے کیلئے کہ آیا کوئی اثاثہ آپ کی اپنی حکمت عملی، اہداف اور سرمایہ کاری کے مجموعی منظر کے لحاظ سے مناسب ہے، اپنی تحقیق خود بھی کریں۔ 

اور یہ سب کہنے کے بعد، آئیں 2021 میں سال کے آغاز سے لے کر آج کی تاریخ تک کے لحاظ سے بہترین اور بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں۔ 

ہم ان اسٹاکس سے شروع کریں گے جنہوں نے عالمی وبا کے باعث ہونے والے اتار چڑھاؤ کے باوجود تیزی کا مظاہرہ کیا اور مارکیٹ کی توقعات سے کئی بڑھ کر کارکردگی دکھائی۔

2021 میں بہترین کارکردگی دکھانے والے اسٹاکس 

1. AMC اور GameStop

کیا کوئی اس بات پر حیران ہے کہ انٹرنیٹ کے پسندیدہ اور بے حد متنازعہ میم اسٹاکس نے اس سال اتنی زیادہ ریلی دکھائی؟ غالباً سبھی حیران ہیں۔ تاہم AMC Entertainment Holdings, Inc. اور GameStop Corp. نے شیئر ہولڈرز کو بالترتیب 1,370% اور 800% کا منافع فراہم کیا۔ 

GME کا اسٹاک پورے سال بے حد اتار چڑھاؤ کا شکار رہا جس کی امید ایک ایسے پُرخظر اثاثے سے یقیناً کی جا سکتی ہے۔ جنوری 2021 میں، GME نے بھرپور قوت کا مظاہرہ کیا اور $321 کی تازہ نئی بلندی حاصل کی اور اس کے کئی نشیب و فراز کے بعد یہ ابھی $157 پر ہے یعنی سال کے آغاز سے لے کر آج کی تاریخ تک 800% کا منافع۔

کمپنی کے تیسری سہہ ماہی کے فنانشیلز نے گزشتہ سال کے Q3 کی 1 بلین ڈالر کی آمدنی کے مقابلے میں 1.29 بلین ڈالر کی نیٹ سیلز رجسٹر کی ہیں جس کی وجہ کمائیوں کی رپورٹ کے مطابق کمپنی کے Samsung، LG، Razer و دیگر کمپنیوں کے ساتھ نئے کاروباری تعلقات کو قرار دیا گیا ہے۔ 

AMC کے اسٹاک کی قیمت گزشتہ کچھ عرصے سے محض $29 فی شیئر چل رہی ہے تاہم سال کے آغاز سے آج کی تاریخ تک کا منافع 1,300% سے متجاوز ہے۔ اس کی تیسری سہہ ماہی کی آمدنیاں Q3 2021 میں 708 ملین ڈالر کی اجتماعی رائے کے مقابلے میں 763 ملین ڈالر تک پہنچی ہیں جس کی وجہ ویکسینیشن کی شرحوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ 40 ملین سے زائد مووی دیکھنے والوں کا کمپنی کے سینما گھروں کی طرف رخ کرنا بھی ہے۔ 

پیشنگوئی ہے کہ آمدنی فی سال 41% کے لحاظ سے بڑھے گی اور Q3 کے اختتام تک، AMC کے پاس نقد اور نقدی کے مساوی 1.8 بلین ڈالر سے زائد ہوں گے۔

2. Moderna

جب تک عالمی وبا خبروں کی زینت بنی رہے گی ویکسین کے اسٹاکس بھی ممکنہ طور پر خوب سے خوب تر ہوتے رہیں گے۔ اور جیسا کہ Moderna, Inc. نے اعلان کیا ہے کہ اس کی بوسٹر ڈوز اومیکرون ویرئنٹ سے نمٹنے میں مفید ہے، اس کا اسٹاک ریلی برقرار رکھ سکتا ہے۔ 

Moderna کی ٹریڈنگ فی الحال $276 پر کی جا رہی ہے جو اگست 2021 میں اس کی $480 کی اعلی ترین قیمت سے کافی نیچے ہے تاہم یہ اب بھی سال کے آغاز سے آج کی تاریخ تک کے لحاظ سے 147% اوپر ہے۔ 

بلاشبہ Moderna کی Q3 کی کمائیاں تجزیہ کاران کی توقعات سے نیچے گر گئی ہیں تاہم آمدنیاں 5 بلین ڈالر تک رہیں جس سے کمپنی منافع میں چلی گئی اور اس کا سہرا اس کی ویکسین کی سیلز کو جاتا ہے۔ موازنے کیلئے بتاتے چلیں کہ گزشتہ سال کی سہہ ماہی کی آمدنیاں صرف 157 ملین ڈالر رہی ہیں۔

مجموعی طور پر، اس بائیو ٹیک کمپنی کی بیلنس شیٹ بہترین ہے اور یہ ثابت شدہ ٹریک ریکارڈ سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ 

3. Ford Motor Company

تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور چپ سپلائی کی ہمہ وقت بڑھتی قلت کی وجہ سے Ford کو باد مخالف کا سامنا ضرور کرنا پڑا تاہم اس امریکی آٹو مینوفیکچرر کا یہ سال شاندار رہا اور یہ ان چند کمپنیوں میں سے تھی جنہوں نے 2021 میں S&P 500 کو کارکردگی میں پیچھے چھوڑا۔ 

Ford کا اسٹاک فی الحال $19 کے آس پاس چل رہا ہے جو کہ $21 کی بلند ترین قیمت سے باؤنس ہونے کے بعد اس کی اہم ترین مزاحمتی سطح ہے۔ توقعات سے بہتر کمائیوں کی رپورٹس کے سلسلے کے دوران اسٹاک کی قیمت سال کے آغاز سے آج کی تاریخ تک کے لحاظ سے 114% بڑھی اور تجزیہ کاران کے اندازے تجویز کرتے ہیں کہ یہ اب تک 30% سے زائد کے لحاظ سے قیمت میں کم ہے۔ 

کمپنی الیکٹرک گاڑیوں میں دل کھول کر سرمایہ کاری کر رہی ہے جس کی وجہ سے یہ اگلے کچھ سالوں کے اندر اس شعبے میں Tesla کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔ 

Ford نے آمدنی کی مد میں 35.7 بلین ڈالر اور 1.8 بلین ڈالر کی کُل آمدنی کے ساتھ Q3 میں شاندار نتائج حاصل کیے۔ 

4. Nvidia

NVIDIA Corporation گیمنگ اور پروفیشنل مارکیٹس کیلئے گرافیکس پراسیسنگ یونٹس (GPUs) نیز سسٹم اِن چپ یونٹس (SOCs) کی ڈیزائنر ہے جو مصنوعی ذہانت اور اعلی کارکردگی والے کمپیوٹنگ سسٹمز کو تقویت دیتی ہیں۔

NVIDIA کا اسٹاک 2021 میں بہترین کارکردگی دکھا رہا ہے، اس نے سال کے آغاز سے آج کی تاریخ تک 107% کی ترقی کا مظاہرہ کیا ہے۔  2021 کی سہہ ماہی میں، NVIDIA نے 7.10 بلین ڈالر کی ریکارڈ آمدنی رپورٹ کی جو اس کی گزشتہ سہہ ماہی سے 9% منافع ہے اور Q3 2020 سے 50% منافع ہے۔ 

5. Alphabet (Google)

جیسا کہ اس پوری عالمی وبا کے دوران FAANG گروپ آف اسٹاکس اور ان کے ریکارڈ مارکیٹ کیپ کے منافعوں نے انہیں ایک الگ ہی مقام پر لا کھڑا کیا ہے، وال اسٹریٹ پر اس سال کے بے حد نمایاں ٹیک اسٹاک ریلی کے فاتح کا تذکرہ نہ کرنا غلط ہوگا۔

Google کا اسٹاک سال کے آغاز سے اب تک کی تاریخ کے لحاظ سے 64% بڑھا ہے، اس نے سال کا آغاز محض $1,726 سے کیا اور اب $2,832 کے آس پاس ہے۔ کمپنی کا مارکیٹ کیپ نومبر میں پہلی بار 2 ٹریلین ڈالر تک پہنچا جس کے بعد اسٹاک $3,000 ہینڈل سے نیچے گر گیا۔ 

تاہم، Google کیلئے مستقبل کی ترقی کوئی مسئلہ نہیں ہے اور کمپنی کے CEO پُراعتماد ہیں کہ تلاش اور اشتہار کی آمدنی جلد 3 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔    

2021 میں بدترین کارکردگی دکھانے والے اسٹاکس

اب باری ہے سب سے مایوس کُن کارکردگی دکھانے والے اسٹاکس کی۔ تاہم، یاد رکھیں کہ ضروری نہیں کوئی شکست خوردہ اسٹاک بالکل ہی بیکار ثابت ہو بلکہ اس کے بجائے یہ صابر سرمایہ کاروں کیلئے خریداری کا موقع پیش کر سکتا ہے جو مندی کے دوران ہولڈ کر سکتے ہوں۔ 

1. Twitter

Twitter کی اسٹاک کی قیمت سال کے آغاز سے اب تک کی تاریخ کے مطابق 18% گری ہے، باوجود اس کے کہ تیسری سہہ ماہی کی کمائیاں تجزیہ کاران کے تخمینوں پر پوری اتری ہیں۔

Q3 کی آمدنی $1.285 کی توقعات کے مقابلے میں $1.284 بلین تک بڑھی ہیں۔ اس کا مطلب ہے گزشتہ سال کی سہہ ماہی سے 37% اضافہ۔ اور کمائیوں سے متعلق فی سال 67% بڑھنے کی پیشنگوئی ہے۔

لہذا جبکہ Twitter نے اس سال کم کارکردگی دکھائی ہے، سرمایہ کاران اسے رعایتی قیمتوں میں خریداری کرنے کا اچھا موقع خیال کر سکتے ہیں۔ 

2. PayPal

ڈیجیٹل پیمنٹس کے اس بے تاج بادشاہ کی فی الوقت قدر 222 بلین ڈالر ہے۔ Paypal نے جولائی 2021 میں $358 کی بلندی حاصل کی تاہم یہ اب اپنی بلند سطح سے کافی دور $189 پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔

PayPal کی آغاز سال سے آج کی تاریخ تک کی آمدنی بھی 18% کم رہی کیونکہ Q3 میں کمائیوں کا معاملہ کافی سرد رہا۔ Q3 میں 6.1 بلین ڈالر کی کمائیوں کے باوجود، جو کہ سال بہ سال 13% کا اضافہ تھا، یہ گزشتہ چند سالوں میں PayPal کی کمزور ترین سہہ ماہیوں میں سے ایک تھی۔ 

3. Zoom

جبکہ Zoom ایک ایسے اسٹاک کی شاندار مثال ہے جس نے عالمی وبا کے دوران زبردست ترقی دکھائی، اب اسے ڈرامائی سست رفتاری کا سامنا ہے۔

Zoom کا اسٹاک 2021 میں لڑکھڑایا اور اب سال کے آغاز سے آج کی تاریخ تک کے لحاظ سے 44% کم ہے جبکہ کمائیاں پہلے سے کئی زیادہ طاقتور ہیں۔ تیسری سہہ ماہی کی آمدنی 1.05 بلین ڈالر تھی جس نے توقعات کو 35% کے لحاظ سے پیچھے چھوڑ دیا۔

Zoom نے کھلے نقدی کے بہاؤ کی مد میں Q3 کے 390 ملین ڈالر تک جنریٹ کیے جو اس سال 1.6 بلین ڈالر کی کُل رقم تک پہنچے۔

4. Alibaba

Alibaba کے اسٹاک کو 2021 میں ایک بڑا جھٹکا لگا، اس نے فروری میں $270 سے شروعات کی اور 22 دسمبر تک $120 تک جا پہنچا جس سے اس کی آغاز سال سے آج کی تاریخ تک کی کارکردگی منفی 48% تک پہنچ گئی۔

یہ مایوس کُن کارکردگی صرف تبھی بدتر ہوتی ہے جب ہم اس کا موازنہ امریکی حریفوں سے کریں جنہوں نے اس سال آسمان کی بلندیوں کو چھوا۔ تاہم اس جھٹکے کی بڑی وجہ چینی حکومت اور بڑی ٹیکنالوجی بالخصوص Alibaba اور اس کے CEO جیک ما کو اپنے زیر اختیار لانے کی کوششیں ہیں۔  

Alibaba کی Q3 کمائیوں کے ریکارڈ میں کمپنی نے آمدنی کی مد میں 31,147 بلین ڈالر رپورٹ کیے جس کا مطلب سال بہ سال 29% کا اضافہ ہے۔

خلاصہ

عالمی وبا رجحانات میں تیزی کا باعث بنی اور اس نے چھوٹے کیپ اور بڑے کیپ والے اسٹاکس کے درمیان فرق کو بڑھایا۔ ان حالات کی وجہ سے دنیا، عالمی معیشت اور فنانشیل مارکیٹس غالباً ہمیشہ کیلئے تبدیل رہیں گی جس کی عکاسی چارٹس پر ہونے والے اتار چڑھاؤ خود کرتے ہیں۔ 

ایک انتہائی ہنگامہ خیز اور پُرجوش سال 2021 کو الوداع کہنے میں ابھی کچھ دن باقی ہیں تاہم چھٹیوں کے سیزن میں متوقع معمولی لیکویڈیٹی کے باوجود مارکیٹ مزید حیران کر سکتی ہے۔

یہ ہمارا سال بہ سال کا جائزہ تھا اور ہم یہ دیکھنے کیلئے پُرجوش ہیں کہ سال 2022 ہمارے لیے کون سے نئے مواقع لے کر آئے گا۔ 

متعلقہ مضامین