8 جنوری 2022

مارکیٹ تجزیہ

2022 میں ٹاپ الیکٹرک گاڑیوں کے اسٹاکس سے کیا توقع کی جا سکتی ہے

گزشتہ کچھ سالوں میں الیکٹرک گاڑیوں کے اسٹاکس Elon Musk کے باعث، قابل تجدید توانائی کے ذریعے کے انقلاب اور حفری ایندھن کے ناقابل گزیر اختتام کے باعث اپنی مقبولیت کی وجہ سے مقبول ترین انسٹرومنٹس رہے ہیں۔ 

آخر کار اسٹاک مارکیٹ کو آگے کا سوچنے والی مارکیٹ سمجھا جاتا ہے اور سرمایہ کاران ہمیشہ اگلے بڑے کھیل کیلئے عالمی رجحانات پر نظر رکھے ہوتے ہیں۔ 

جیسا کہ کچھ EV اسٹاکس نے 2021 میں عالمی وبا کی وجہ سے ہونے والی سپلائی چین میں خلل اندازیوں کے باوجود S&P 500 کے 27% منافعوں سے بڑھ کر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، ہم اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ جانچتے ہیں کہ بڑے کھلاڑی کس جگہ کھڑے ہیں اور 2022 کی پہلی سہہ ماہی میں کن رجحانات کی توقع کی جا سکتی ہے۔

چارج سنبھالنا: Tesla نے ریکارڈ توڑ ڈیلیوریز کی رپورٹ کے ساتھ پیشنگوئیوں کو کافی پیچھے چھوڑ دیا ہے

2021 کے آخری چند ماہ Elon کی Tesla کیلئے مشکل رہے تاہم اس اختراعی کار ساز کمپنی نے پھر بھی سال کا اختتام 50% منافع پر کیا۔ 

گزشتہ ہفتے، Tesla نے اپنی گاڑیوں کی Q4 پروڈکشن اور ڈیلیوریز رپورٹ ریلیز کی جس نے نیا ریکارڈ بناتے ہوئے تجزیہ کاران کے تخمینوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ 308,000 سے زائد Tesla ماڈل S، 3، X اور Y Q4، 2021 میں ڈیلیور ہوئے جس سے سال کی کُل تعداد 936,172 پر آگئی جو کہ سال بہ سال کے لحاظ سے 87% اضافہ ہے۔

یہ ایک متاثر کُن کارنامہ ہے کیونکہ Tesla نے ایک ایسے وقت میں پروڈکشن اور گاڑیوں کی ڈیلیوری میں اضافہ کیا جب پوری آٹو موٹیو انڈسٹری چپ کی عالمی قلت اور سپلائی چین کے مسائل کی وجہ سے بری طرح متاثر تھی۔ 

جبکہ Tesla کے مداح 2023 سے پہلے پہلے مشہور اور کچھ حد تک بدنام Cybertruck نیز قدرے کفایتی Tesla ماڈل کی پروڈکشن کی توقع بھی کر سکتے ہیں۔ EV کمپنی نے شنگھائی، آسٹن، برلن اور فری مونٹ میں اپنی موجودہ فیکٹریوں کی مدد کرنے کیلئے مزید پروڈکشن سائٹس شامل کر کے پروڈکشن میں اضافے کے حوالے سے اپنے ارادوں کا اعلان بھی کیا ہے۔ 

2022 میں یقیناً Tesla کو سخت مقابلے کا سامنا ہوگا کیونکہ حریف بھی اپنی الیکٹرک گاڑیوں کو لے کر میدان میں اترنے کیلئے تیار ہیں بشمول چین میں Nio اور Li Auto نیز امریکہ میں Rivian اور Lucid۔

Lucid کا یورپی مارکیٹس میں آنے کا اراداہ

Lucid ایک تیزی سے ترقی کرتی EV کمپنی ہے جس کا ہیڈ کوارٹر کیلیفورنیا میں ہے۔ یہ Nasdaq میں عوامی طور پر ٹریڈ کی جانے والی کمپنی بنی، جس کے بعد جولائی 2021 میں SPAC کے ساتھ اس کا انضمام ہوا اور اب اس کی مالیت 65 بلین ڈالر ہے۔ 

LCID اسٹاک فی الحال $38 کے قریب ٹریڈ ہو رہا ہے جو کہ جنوری 2021 سے اب تک 232% کا اضافہ ہے۔ اور اپنی Q3 کمائیوں کی رپورٹ کے مطابق، Lucid سے متوقع ہے کہ وہ 2023 کے اختتام تک 90,000 تک گاڑیوں کو فی سال 'پروڈکشن کی گنجائش فراہم کرے گی' جس سے Lucid Air کی پروڈکشن کی گنجائش میں اضافہ ہوگا اور 'پروجیکٹ گریویٹی' SUV کیلئے پروڈکشن کی گنجائش بڑھے گی۔ توسیع کے دوسرے مرحلے میں 2.85 ملین مربع فٹ پروڈکشن فٹ پرنٹ شامل کرنے کی توقع ہے جو پروڈکشن کے طریقوں کا مزید عمودی انضمام کرے گا۔

جبکہ کمپنی نے حال ہی میں یعنی اکتوبر 2021 کے آخری حصے میں ہی اپنی قیمتی فلیگ شپ ڈیلیور کرنا شروع کی ہے، اس کے بعد سے اس نے اپنا فٹ پرنٹ یورپ میں پھیلانے سے متعلق اپنے ارادوں کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ 

Nio نے پروڈکشن میں اضافہ کیا ہے اور ساتھ ہی طویل مدتی ترقی کا وعدہ بھی 

Nio چین کے نمایاں الیکٹرک گاڑیاں بنانے والوں میں سے ایک ہے جس کا ہیڈ کوارٹر شنگھائی میں ہے۔ کمپنی کا مارکیٹ کیپ 2021 میں تقریباً 40% گرنے کے بعد فی الوقت 47 بلین ڈالر پر کھڑا ہے۔ 

جبکہ کمپنی نے پچھلے سال 2021 میں 91,400 سے زائد گاڑیاں ڈیلیور کی ہیں جو سال بہ سال کے لحاظ سے 110% اضافہ ہے اور یوں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے تاہم چینی حکومت ٹیک کمپنیوں پر کریک ڈاؤن کر رہی ہے جس سے خطے میں EV اسٹاکس کو ایک اور مسئلے کا سامنا ہے۔ 

تاہم، چین میں الیکٹرک گاڑیوں کی ڈیمانڈ زیادہ ہے اور کمپنی سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی پیشکشوں میں نئے ماڈلز کے ساتھ اضافہ کرے گی جن کا اعلان اس سال ہوگا۔ کمپنی کا اسٹاک اجتماعی رائے کی سطح سے نیچے ٹریڈ ہو رہا ہے اور 2022 کے اندر آمدنیوں میں 75% اضافے کی توقع ہے۔

ہیفئی، چین میں Nio کی نئی پروڈکشن فیسیلٹی سے سالانہ 240,000 گاڑیاں تیار ہونے کی توقع ہے۔ اور کمپنی اس سال پانچ یورپی ممالک میں اپنی کاریں فراہم کر کے یورپ میں بھی اپنا فٹ پرنٹ پھیلانے کیلئے اقدامات لے رہی ہے۔

Li Auto سال 2022 میں بریک آؤٹ کیلئے تیار ہے

Li Auto چینی EV مارکیٹ میں ایک نووارد ہے اور اسے 2020 سے Nasdaq میں مندرج کیا گیا جہاں اس نے اپنی IPO میں 1 بلین ڈالر اکٹھے کیے۔ 

اس کی Q4 ڈیلیوری رپورٹ نے سال بہ سال کے لحاظ سے 143% کے اضافے کا مظاہرہ کیا جو کہ 25,116 گاڑیاں ڈیلیور کیے جانے سے گزشتہ سہہ ماہی 35,220 ڈیلیوریز کا اضافہ ہے۔ 

اپنی Q3 کی آمدنیوں کی کال کے مطابق مینوفیکچرر کی رپورٹ کردہ آمدنی 1.21 بلین ڈالر تک پہنچی جس کا مطلب 2020 کی اسی سہہ ماہی کے مقابلے میں 199% اضافہ ہے۔ 

اپنی Q3 فنانشیلز کے مطابق کمپنی کی مالیاتی حالت بے حد مضبوط ہے اور ان کے پاس نقد اور نقدی کے مساوی اثاثوں میں 7 بلین سے زائد ڈالر موجود ہیں نیز اس نے حال ہی میں نئی بیجنگ مینوفیکچرنگ سائٹ کے ساتھ اپنی توسیع کے ارادوں کا بھی اعلان کیا ہے جو 2023 میں مکمل ہو جائے گی اور ساتھ ہی چانگژو میں ایک اور فیکٹری حاصل کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ 

Nio، Xpeng اور Lucid جیسے حریف جس طرح یورپی مارکیٹس میں اپنے قدم جما رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے یہ انتہائی ممکن معلوم ہوتا ہے کہ Li Auto بھی اس سال اسی راہ پر چلتی نظر آئے گی۔

حتمی خیالات

آنے والے سالوں میں مینوفیکچرنگ کو بڑھانا الیکٹرک گاڑیوں کے مینوفیکچررز کیلئے غالباً سب سے بڑا چیلنج ہوگا کیونکہ ڈیمانڈ زیادہ ہے اور تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے جبکہ سپلائی اس کی تیزی کا ساتھ نہیں دے پا رہی ہے۔ 

اور ایسا ہی کچھ معاملہ قابل پیشنگوئی مستقبل کیلئے بھی دکھائی دیتا ہے جیسا کہ افراط زر سے متعلق مسائل، شرح سود میں اضافے اور عالمی لیبر مارکیٹ کی قلتیں سر پر منڈلا رہی ہیں۔ 

اگرچہ الیکٹرک گاڑیوں کے انقلاب کی فی الوقت روح رواں کمپنیاں جیسے کہ Tesla شاید الیکٹرک گاڑیوں کی اگلی Google یا Amazon ثابت نہ ہوں، یہ انڈسٹری کا محض ابتدائی دور ہے اور الیکٹرک موٹر پر ہونے والی یہ عالمی ہجرت ہماری اپنی آنکھوں کے سامنے ہی ہو رہی ہے۔ 

2021 میں Tesla کی امید سے بڑھ کر کارکردگی الیکٹرک گاڑیوں کی انڈسٹری کے تئیں زبردست ڈیمانڈ تجویز کرتی ہے جسے طویل مدت میں منافع بخش ترین سرمایہ کاریوں میں سے ایک خیال کیا جا رہا ہے۔ 

متعلقہ مضامین