9 فروری 2022

کرپٹو کرنسیاں

کیا آپ کو 2022 میں بٹ کوائن شارٹ کرنا چاہیے؟

اگر کوئی ایک ایسا اصول ہے جو ریٹیل ٹریڈرز کو بٹ کوائن یا کسی بھی اور مارکیٹ میں ٹریڈنگ کرتے وقت ہمیشہ فالو کرنا چاہیے تو وہ ہے رجحان کے ساتھ ٹریڈ کرنا۔ تاہم، رجحان کے ساتھ ٹریڈ کرنا اور رجحان کی شناخت کر پانا دو مختلف چیزیں ہیں، بالخصوص جب آپ کرپٹو کرنسی کے جوڑوں جیسے بہت زیادہ اتار چڑھاؤ والے اثاثے کی ٹریڈنگ کر رہے ہوں۔ 

کرپٹو کرنسیوں میں زیادہ اتار چڑھاؤ کے باوجود بٹ کوائن اور کرپٹو انڈسٹری بہرحال عالمی فنانشیل سسٹم اور رقم کے مستقبل کے حوالے سے ایک نیا نقطہ نظر پیش کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ اور بٹ کوائن نہ لینا کم از کم طویل مدت میں عجیب معلوم ہوگا بالخصوص موجودہ افراط زر کے پس منظر میں۔

لہذا اگرچہ کوئی بھی کرپٹو کرنسی کی قیمتوں کی بالکل درست پیشنگوئی نہیں کر سکتا، تجزیہ کاران توقع کرتے ہیں کہ بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو اوپر کی طرف کا سفر جاری رکھیں گے۔ 

بدنامی سے منظر عام پر آنا

بٹ کوائن کے شاکی اور مخالفین نے کرپٹو کے آغاز سے ہی اس پر تنقید کی ہے اور پھر ڈارک ویب پر لین میں اس کے تعلق سے بھی معاملات خراب ہوئے۔ اور بہت زیادہ اتار چڑھاؤ کا مسئلہ بھی اپنی جگہ پر ہے۔ آخر کار، محنت سے کمائے گئے پیسے کو اتنے زیادہ اتار چڑھاؤ والے اثاثے میں لگا دینا عقلمندی کا کام معلوم نہیں ہوتا، چاہے آپ کتنا ہی زیادہ خطرہ برداشت کر لینے والے سرمایہ کار کیوں نہ ہوں۔ 

تاہم ان مسائل کے باوجود، بٹ کوائن نے فنانشیل اور ثقافتی دونوں طرح کا انقلاب برپا کر دیا ہے۔ سرخیاں کرپٹوکرنسیوں، DeFi (ڈی سینٹرلائزڈ فنانس) اور NFTs سے بھری پڑی ہیں جبکہ سرمایہ کاری اور ذاتی فنانس سے وابستہ آن لائن کمیونٹیز تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔ عوامی سطح پر اتنے بڑے پیمانے پر کرپٹو کرنسیوں کی ٹریڈنگ میں اتنی زیادہ دلچسپی پہلے کبھی نہیں رہی ہے۔

کرپٹو کرنسیاں کافی حد تک قانونی حیثیت بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ کئی مشہور و معروف کمپنیوں نے اپنے پلیٹ فارمز پر کسی نہ کسی طرح کا کرپٹو کرنسی سے ادائیگی کا طریقہ متعارف کروا دیا ہے۔ 

ایل سیلواڈور اور بھارت کی حکومتوں نے بھی کرپٹو کرنسی ٹرانزیکشنز کو ریگولیٹ کرنے اور ان پر ٹیکس لگانے کے اقدامات لیے ہیں جس سے کرپٹو کرنسیوں کی قانونی حیثیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ نیز جبکہ چین نے حال ہی میں کرپٹو کرنسیوں کی ٹریڈنگ اور مائننگ پر مکمل پابندی لگائی ہے، اس کے سینٹرل بینک نے کرپٹو کرنسی کا اپنا ورژن لانچ کیا ہے ڈیجیٹل رینمنبی جو دنیا کی پہلی قومی ڈیجیٹل کرنسی بن گئی ہے۔ 

بٹ کوائن اور CFDs کے ساتھ ٹریڈ کرنا

قانونی حیثیت میں اس بڑھتے ہوئے اضافے کے باوجود، کرپٹو کرنسیوں کا بدنام زمانہ اتار چڑھاؤ برقرار ہے۔ بٹ کوائن رکھنے کا مطلب ہے کہ جب بھی مارکیٹ میں مندی آئے گی آپ کو نقصان پہنچے گا۔ تاہم CFDs کے ساتھ بٹ کوائن کی حرکات پر نظر رکھنے کا انتخاب کرنے سے آپ قیمتیں گرنے پر بھی ٹریڈ کرنے کا موقع حاصل کر سکتے ہیں۔ 

CFD (معاہدہ برائے فرق) بنیادی انسٹرومنٹ کی حرکات ٹریک کرنے والے ڈیریویٹو اثاثہ جات ہیں۔ یہ کئی مختلف انسٹرومنٹس بشمول کرپٹو کرنسیوں نیز اسٹاکس، کموڈٹیز اور فیاٹ کرنسیوں کیلئے دستیاب ہوتے ہیں۔

CFD کی ٹریڈ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ بنیادی اثاثہ خریدے بغیر اس کی قیمت کی حرکات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ ٹریڈر کو سہولت دیتا ہے کہ اگر مارکیٹ نیچے گر رہی ہو تب بھی شارٹ ٹریڈ کر کے یا پھر اپنا CFD بیچ کر منافع کما لے۔ 

تاہم CFDs کی ٹریڈ کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان کی ٹریڈنگ مارجن پر کی جاتی ہے۔ مارجن کے ذریعے ٹریڈرز اپنی ابتدائی سرمایہ کاری سے کئی گنا بڑی پوزیشنز کھول سکتے ہیں اور زیادہ بڑے منافعوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ یقیناً، مارجن پر ٹریڈ کرنے سے خطرے کا اندیشہ بھی بڑھ جاتا ہے اور اسی لیے CFD ٹریڈرز کیلئے خطرے کی مینجمنٹ کی حکمت عملی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

ہر CFD کیلئے مارجن کے تقاضے سے کُل ایکسپوژر کے موازنے کو لیوریج کا تناسب بھی کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، 1:5 کے لیوریج تناسب سے بٹ کوائن کی ٹریڈنگ کرنا ٹریڈرز کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹ میں صرف $1,000 کے ساتھ $5,000 مالیت کے بٹ کوائن کی خرید و فروخت کر سکیں۔

Exness کلائنٹس کئی مختلف کرپٹو کرنسی جوڑوں پر 1:200 کی لیوریج سے لطف اندوز ہوتے رہے ہیں اور حال ہی میں بروکر نے بٹ کوائن اور ایتھیریم کیلئے لیوریج 1:400 تک بڑھا دی ہے۔ 

کیا ٹریڈرز کو بٹ کوائن شارٹ کرنا چاہیے یا پھر ایک اور ریلی کی تیاری کرنی چاہیے؟

جہاں تک مارکیٹ کے مجموعی جائزے کی بات ہے تو یہ حقیقت ہے ک بٹ کوائن میں بہت زیادہ اتار چڑھاؤ ہوتا ہے۔ لیکن اگر ایک قدم پیچھے ہٹ کر بڑی تصویر پر نگاہ ڈالی جائے تو اتار چڑھاؤ مختصر مدتی مسئلہ معلوم ہوگا۔ نیز کسی بھی اور مارکیٹ کی طرح ہی، بٹ کوائن بھی تیزی اور مندی کے ادوار سے گزرتا ہے۔ 

مثال کے طور پر، سالانہ ٹائم فریم پر نگاہ ڈالی جائے تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ قیمتیں اب بھی اسی رینج میں ٹریڈ ہو رہی ہیں جس میں پچھلے سال ہو رہی تھیں۔ جس وقت یہ مضمون لکھا جا رہا ہے، BTCUSD کی قیمت $44,000 اور $41,000 کے درمیان گھوم رہی ہے جبکہ 16 فروری کو، یعنی ٹھیک ایک سال پہلے بھی اس کی ٹریڈنگ $45,000 کے قریب ہو رہی تھی۔  

اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تاریخ خود کو دہرائے گی تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ اتار چڑھاؤ مختصر ٹائم فریمز کا مسئلہ ہے، جیسا کسی بھی اور اثاثے میں ہوتا ہے۔    

فیاٹ کرنسیوں کے برعکس، بٹ کوائن کی تعداد محدود ہے، 21 ملین سے زیادہ بٹ کوائن کبھی موجود نہیں ہوں گے اور بٹ کی زیادہ سے زیادہ کُل سپلائی کا 90% پہلے ہی مائن کیا جا چکا ہے۔ جبکہ بڑی معیشتوں کی کرنسیاں اور سب سے اہم طور پر امریکی ڈالر ریکارڈ توڑ افراط زر کے ریٹس کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں، بٹ کوائن کبھی 21 ملین کی اس پکی حد سے تجاوز نہیں کرے گا۔ لہذا، سپلائی اور ڈیمانڈ کے قوانین کے مطابق قیمتوں کو بڑھنا چاہیے۔ 

آسان الفاظ میں کہا جائے تو جب تک بٹ کوائن کی ڈیمانڈ زیادہ ہے، عالمی سطح پر اس کی قیمت محدود دستیابی کے باعث بڑھے گی۔ بٹ کوائن ڈیمانڈ میں رہے گا یا نہیں اس بارے میں یقیناً حتمی طور پر کچھ نہیں کیا جا سکتا تاہم کرپٹو کرنسیوں کو آغاز سے ہی مفید اثاثے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے اور آئندہ کیلئے بھی یہی امکان ہے اگرچہ یہ امکان فنانشیل تجزیہ نگاران کے مشورے کے برعکس ہے۔ 

یہ نوٹ کرنا بھی اہم ہے کہ مستقبل قریب میں بھی کرپٹو کرنسی مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ کا غلبہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ JPMorgan کے تجزیہ نگاران کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت پہلے ہی بہت زیادہ ہے اور اس کی جائز قدر $38,000 ہے۔  

نیز امریکہ میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے تجویز کردہ بلند شرح سود بھی ممکنہ طور پر امریکی ڈالر کو تقویت دے گی جو بدلے میں کموڈیٹی مارکیٹس اور کرپٹو کرنسیوں دونوں پر دباؤ پیدا کرے گا۔

حتمی خیالات

جبکہ بٹ کوائن کو شارٹ کرنا مختصر مدت کیلئے ایک قابل عمل حکمت عملی ہے، بڑی تصویر یہ بتاتی ہے کہ ریٹیل اور اداریاتی سرمایہ کاران کی طرف سے مارکیٹ میں پیسہ آنے پر اس کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ 

مختصر مدتی ٹریڈنگ حکمت عملیوں پر فوکس کرنے والے ریٹیل ٹریڈرز کیلئے بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی ٹریڈ کرنا ایک چیلنج ہے۔ ان میں بلند خطرہ، زیادہ انعام شامل ہے اور یہی کرپٹو ٹریڈنگ کی اتنی زیادہ مقبولیت کی ایک وجہ بھی ہے۔

طویل مدت میں مستقل نتائج کے ساتھ خطرے کی مینجمنٹ کے اصول کسی بھی حکمت عملی کی بنیاد ہونے چاہئیں اور یہی بٹ کوائن ٹریڈنگ کیلئے بھی اس کے بہت زیادہ اتار چڑھاؤ اور مندی کے اندیشے کی وجہ سے خصوصی طور پر درست ہے۔ 

متعلقہ مضامین