30 مئی 2022

مارکیٹ تجزیہ

2022 میں دھاتیں تیزی کیلئے تیار ہیں

جسے ہمیشہ بڑے سرمایہ کاروں کیلئے ایک محفوظ اثاثہ سمجھا جاتا تھا اب اس میں بالکل کرپٹو کرنسیوں کی طرح بیحد اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ اور اب بڑی خبر یہ ہے کہ روسی دھاتوں کو لندن مارکیٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس سے کون سی دھاتیں متاثر ہوں گی یہ واضح ہے اور تاجر ابھی سے اس کے لیے حکمت عملیاں بنا رہے ہیں۔ آئیں 4 سب سے زیادہ مشہور قابل تجارت دھاتوں پر نظر ڈالتے ہیں اور آنے والے مہینوں میں کیا متوقع ہے اس اس بارے میں غور و خوض کرتے ہیں۔

پلاڈیم کی ٹریڈنگ کرنا

پلاڈیم کی عالمی ڈیمانڈ کی وجہ کیا ہے؟ پلاڈیم گاڑیوں کی پروڈکشن کا ایک اہم جزو ہے۔ یہ دنیا میں ہر گاڑیاں مینوفیکچر کرنے والا کیٹالیٹک کنورٹرز میں اخراج میں کمی کے لیے استعمال کرتا ہے۔

پلاڈیم ایک نایاب دھات ہے جس کی کان کنی کچھ ہی جگہوں پر کی جاتی ہے اور روس شاید اس کا سب سے بڑا سپلائر ہے۔ در حقیقت، روس کئی دہائیوں سے پلاڈیم کی عالمی ڈیمانڈ کا 40% پورا کر رہا ہے لیکن حالیہ پابندیوں نے سپلائی چینز کو روک دیا ہے اور ہم مارکیٹ پلیس میں اس کی قلت کی شروعات دیکھ رہے ہیں۔

فروری کے آخر میں، دھات کے بارے میں پہلے سے قیاس آرائی کرنے والوں نے متوقع قلت کے خوف کی وجہ سے عجلت میں خریداری کی اور پلاڈیم بڑھ کر $3294 فی اونس پر چلا گیا۔ صرف 8 دن میں 40% کا بڑا اضافہ۔ 9 مارچ کو، سرمایہ کار بلند ترین اونچائی پر بیچ سمندر میں کشتی سے اتر گئے جس کے نتیجے میں یہ قیمتی دھات کریش ہو کر $2000 سے نیچے آ گئی۔

تب سے، غیر یقینی کی وجہ سے موقع پرستانہ بڑے حجم کی ٹریڈنگ اور اتار چڑھاؤ کا خوف ختم ہو گیا ہے، لیکن اب ممکن ہے کہ ہم آنے والے دنوں میں پلاڈیم کی قیمتوں میں لمبے عرصے کے لیے اضافہ دیکھیں۔ دنیا ایک دم سے ایسے پلاڈیم سپلائر کی طرف نہیں دیکھ سکتی جسے اب تک نظر انداز کیا گیا تھا، اس لیے XPDUSD پر نظر رکھیں۔

پلاٹینم کی قیمت میں اضافہ

پلاٹینم ایک بہت پُرکشش مادہ ہے جس کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے۔ اور یہ ایک اور خام دھات ہے جس پر اس جاری تنازعہ نے اثر ڈالا ہے، چونکہ روس اس کا دوسرا بڑا سپلائر ہے۔ تمام عالمی پلاٹینم کا تقریباً 50% کیٹالیٹک کنورٹرز کی مینوفیکچرنگ میں استعمال ہوتا ہے۔ عالمی تجارتی مارکیٹ میں اب جبکہ روسی مواد کو قبول نہیں کیا جا رہا، پلاٹینم کی قیمتوں میں اضافے کی توقع کرنا غیر مناسب نہیں کیونکہ قلت میں اضافہ سپلائی/ڈیمانڈ محرک کو متاثر کرتا ہے۔ XPTUSD کو اپنی واچ لسٹ میں شامل کریں اور طویل مدت کی پیشنگوئی شروع کریں۔

سونے اور چاندی کی بے ضابطگی

فروری کے آخر میں، سونے میں ایک مستحکم اضافہ ہو رہا تھا۔ اچانک، 4 مارچ کو قیمتوں میں اضافہ ہوا جو کہ 9 مارچ کو بلند ترین سطح تک آ گیا، لیکن پھر اگلے ہی دن یہ ایک ہفتے تک کے لیے کریش ہو گیا۔ مین اسٹریم میڈیا نے یہ پیشنگوئی نہیں کی تھی اور ابھی تک اس کی وضاحت نہیں دے سکے ہیں۔

کچھ فنانسرز نے دنیا بھر کی میڈیا ہائپ پر بڑے حجم کی سرمایہ کاری کی طرف پوائنٹ کیا جس نے EU کرنسی کے عدم استحکام کا خطرہ پیدا کیا۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ ہیج فنڈ مینجرز اور بڑے سرمایہ کاروں نے اس ہفتے کی متوقع میڈیا ہائپ پر کارروائی کی اور پہلے سے سونے کے بُلش ٹرینڈ کو مزہد تیز کر کے $2058 فی اونس تک پہنچا دیا۔ بڑی مچھلیوں نے پیسے نکلوا لیے جو گھبراہٹ میں فروخت کی وجہ بنی اور سونا تیزی سے کریش ہو کر ایک ہفتے سے کم میں 6% گر کر $1910 تک نیچے آ گیا۔

اب جبکہ گھبراہٹ اور ہائپ ختم ہو چکی ہے تو سونا اپنے معمول پر واپس آ گیا ہے اور ہمیشہ کی طرح چاندی بھی اس کے پیچھے چل رہی ہے۔ یہاں سیکھنے کے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ سیاسی حالات چاہے جیسے بھی ہوں XAUUSD میں بھی اتار چڑھاؤ ہو سکتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ 2022 میں بھی ہمیشہ کی طرح ناقابل قیاس رہے۔

خلاصہ

اگر کسی زیادہ ڈیمانڈ والی کموڈیٹی کی سپلائی چینز ختم ہو جاتی ہیں تو یقیناً قیمتوں سے اس کا اظہار ہوگا۔ یہ مارکیٹس کی فطرت ہے۔ روس پر لگنے والی سینکشنز اور پابندیاں یقیناً پلاٹینم اور پیلاڈیم کی سپلائیز اور نتیجتاً قیمتوں کو متاثر کریں گی تاہم سونے اور چاندی کے معمول کی قیمتوں سے ہٹنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، الّا یہ کہ کوئی اور بڑی افواہ غیر معقول تجارتی رویہ کا باعث بن جائے۔ اس حوالے سے محتاط رہیں!

ممکن ہے کہ ہم پہلی بار قیمتی دھاتوں کی قیمت کی حرکات میں خاطر خواہ عدم اتفاق دیکھیں لہذا آنے والے مہینوں میں چار بڑی دھاتوں پر نظر رکھیں۔

متعلقہ مضامین