9 جنوری 2022

مارکیٹ تجزیہ

بلند سودی شرحیں عالمی مالیاتی مارکیٹس کو کس طرح متاثر کریں گی؟

جب سے عالمی وبا کی وجہ سے اشیاء کا بہاؤ، سروسز اور وسیع پیمانے پر معیشت میں خلل پیدا ہونا شروع ہوا ہے، سرکاری حکومتوں اور پالیسی سازوں کی جانب سے زیادہ تر ریلیف مقداری آسانی اور کم سودی شرحوں کی صورت میں سامنے آئی ہے۔

تاہم اب جبکہ افراط زر سالانہ 7% کے لحاظ سے اضافے کے ساتھ چار دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ کر کریٹیکل ماس کو پہنچ رہا ہے، سبھی نظریں Fed اور ناقابل گزیر سودی شرحوں کے اضافے اور بانڈ خریدنے کے پروگرامز کو گھٹانے پر مرکوز ہیں۔ 

آج ہم اس پر نظر ڈال رہے ہیں کہ سخت مانیٹری پالیسی اور بلند سودی شرحوں کے ساتھ سال میں داخل ہونے پر مالیاتی مارکیٹس سے کس ردعمل کی توقع ہے۔ 

کرنسی کے جوڑے

مجموعی طور پر، کسی بھی مالی یا مانیٹری پالیسی کی تبدیلی پر سب سے پہلے کرنسی مارکیٹس ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔ بلکہ، سودی شرحوں میں اضافے کی توقع نے پہلے سے ہی زیادہ تر میجر جوڑوں کے ریٹس کو حرکت دے دی ہے۔ اس کے علاوہ، سال 2022 میں متعدد بار سودی شرحوں میں اضافے کی توقع نے ڈالر میں دلچسپی بڑھا دی ہے۔ 

عام طور پر، بلند سودی شرحیں کرنسی کی قدر میں اضافے کا سبب بنتی ہیں کیونکہ یہ زیادہ منافع دینے والی کرنسیوں کے متلاشی بیرونی سرمایہ کاروں کو زیادہ لبھاتی ہے۔

اومیکرون کے خدشات اور افراط زر کے بے قابو ہونے کے باوجود، ڈالر دیگر کرنسیوں پر حاوی آتا جا رہا ہے۔ نیز کچھ تجزیہ کاران نے بٹ کوائن کی قدر میں حالیہ کمی کو شرح سود میں متوقع اضافوں کا جواب قرار دیا ہے۔

اگر واقعی ایسا ہے تو Fed کے اپنی پالیسی کا اعلان کرنے پر ڈپ کے مواقع کرپٹو کرنسی مارکیٹ کو سہارا دے سکتے ہیں۔ 

اسٹاک مارکیٹ

اسٹاک مارکیٹ نے 2021 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور Fed کی طرف سے ہونے والی آئندہ پالیسی کی تبدیلی کے باوجود امریکی انڈیکسز بلندی کے ریکارڈ توڑ رہے ہیں۔  

بڑی تصویر دیکھیں تو بلند سودی شرحیں اسٹاک کی قیمتوں کیلئے بیئرش علامت ہیں۔ بلند سودی شرحوں کا مطلب ہوتا ہے قرضہ لینے کی بلند لاگتیں جس کا مطلب ہے کہ کمپنی کی ترقی کیلئے سرمایہ لگانے کی رقم کم ہوگی۔ 

اسی طرح، بلند سودی شرحیں ملازمت پیشہ افراد کو بھی متاثر کریں گی، بالخصوص انہیں جن پر قرضہ ہے یا جنہوں نے کچھ گروی رکھوایا ہوا ہے کیونکہ انہیں اپنے قرضوں پر زیادہ اصل رقم خرچ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ یہ وہ اصل رقم ہے جو بصورت دیگر اسٹاک مارکیٹ میں استعمال ہوتی۔ لہذا، بلند سودی شرحوں کا پوری اسٹاک مارکیٹ پر کافی گہرا اثر ہوتا ہے۔ 

تاہم جیسا کہ عالمی وبا عالمی معیشت کی بحالی میں مانع ہے، افراط زر کو قابو کرنا اشد ضروری ہوگیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، جب تک کہ سودی شرحوں میں اضافے سرمایہ کاران کو حیران نہیں کرتے، مارکیٹ قدرے مستحکم ہوگی اور اوپر کا رجحان جاری رکھے گی۔ 

بہرحال، اس غیر متوقع دور میں مارکیٹس کے ردعمل کی پیشنگوئی کرنے کا کوئی متعین طریقہ کار نہیں ہے اور ہم اس نئے اسٹیٹس کیو کے دوران زیادہ اتار چڑھاؤ کی توقع کر سکتے ہیں۔ 

کموڈیٹیز

کموڈیٹیز اثاثوں کا ایک اور زمرہ ہیں جو ڈالر کی کارکردگی کے تئیں کافی حساس ہے۔ دیگر قیمتی دھاتوں کی طرح ہی سونے کی مارکیٹ کا تعین بھی سپلائی اور ڈیمانڈ کی قوتیں کرتی ہیں۔

سودی شرحوں کا سونے کی مارکیٹ پر براہ راست کوئی اثر نہیں ہوتا ہے تاہم چونکہ سونا امریکی ڈالر سے معکوس رشتہ رکھتا ہے لہذا یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ اس مارکیٹ میں بھی کچھ ایڈجسٹمنٹس ہو سکتی ہیں۔ 

نیز گزشتہ تاریخی کریکشنز کے مطابق، بلند سودی شرحیں سونے کی مارکیٹ کے لیے بیئرش ثابت ہوئی ہیں۔ اس کی توثیق سال کے پہلے ہفتے کے ڈیٹا سے بھی ہوتی ہے۔ بلکہ، سونے کی قیمت پہلے سے ہی عنقریب ہونے والے اضافوں کی خبر کے باعث کریکشن کی راہ پر چل پڑی ہے۔ 

سرمایہ کاران کے ڈپ خریدنے کی وجہ سے اب بھی اوپر کی جانب حرکت میں کچھ جان باقی ہے تاہم طویل مدتی پیشنگوئیاں بیئر مارکیٹ کے حق میں ہیں۔ 

جیسا کہ امریکی ڈالر ممکنہ طور پر سودی شرحوں کے اضافے سے مستفید ہوگا، ہم خام تیل کی مارکیٹ کو مزید جھٹکے لگنے کی بھی توقع کر سکتے ہیں۔ چونکہ تیل کے بیرلوں کی خرید و فروخت امریکی ڈالر میں کی جاتی ہے، جب ڈالر کی قیمت بڑھتی ہے تو دیگر ممالک کے لیے تیل کی قیمت بھی بڑھتی ہے۔ 

یہ سپلائی اور ڈیمانڈ کے منظر میں بہت بڑی منتقلی ہوتی ہے۔ بہت سے ایسے ترقی پذیر ممالک جن کے پاس فنڈز کم ہوتے ہیں لیکن تیل کے صارفین زیادہ، اپنے تیل کے بجٹس پر اپنی گرفت سخت کر لیتے ہیں۔ بالآخر یہ تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کا سبب بن سکتا ہے۔ 

خلاصہ کلام

سودی شرحوں میں اضافوں کے اعلان نے ابھی سے عالمی مالیاتی مارکیٹس کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے اور جبکہ امریکی ڈالر اپنے حق میں زیادہ زر مبادل کی شرح سے مستفید ہوگا، دیگر اثاثے نیچے آتے چلے جائیں گے۔

اسٹاک مارکیٹ کو کچھ صحت بخش اتار چڑھاؤ کے ادوار کا سامنا ہوا ہے اور کموڈیٹیز نے ڈپ کی صورت میں جواب دیا ہے۔ بظاہر، انڈیکسز کے سکڑنا شروع ہونے کے ساتھ اسٹاک مارکیٹ کیلئے مزید اتار چڑھاؤ کی توقع رکھنی چاہیے۔ امریکی ڈالر کے علاوہ زیادہ تر میجر کرنسی جوڑوں کیلئے بھی ایسے ہی رد عمل کی توقع ہے۔ 

یہ سب ان اثاثوں کے تاریخی رویے کے موافق ہیں۔ تاہم، عالمی وبا کی موجودگی میں، سرمایہ کاران کو مختلف نتائج کیلئے بھی تیار ہونا چاہیے۔ 

متعلقہ مضامین