16 دسمبر 2021

مارکیٹ کی خبریں

کیا Apple نیا سیف ہیون اثاثہ ہے؟

جیسا کہ دنیا اس وقت ایک انتہائی سطح کی بے چینی اور عدم استحکام سے گزر رہی ہے، روایتی سیف ییون اثاثے بھی اتنے محفوظ معلوم نہیں ہوتے۔ سونے کی تنزلی اور امریکی ڈالر پر زیادہ افراط زر کی شرحوں کے دباؤ کے ساتھ، سب سے زیادہ قابل اعتماد سیف ہیون اثاثے اپنے مقاصد پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ دوسری طرف، Apple اسٹاکس مارچ 2020 سے اب تک کامیاب رہے ہیں، جس دوران دنیا Covid-19 کی وبا سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔ Apple کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن اب $2.97 ٹریلین ڈالر ہے، یعنی یہ دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی ہے اور کچھ دن میں ممکنہ طور پر $3 ٹریلین تک پہنچنے والی پہلی کمپنی بن جائے گی۔ کیا Apple نیا سیف ہیون اثاثہ بننے کی راہ پر گامزن ہے؟ ایک ایسا سیف ہیون جو مستقل مزاجی سے مارکیٹ سے بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے اور افراط زر کے خلاف حفاظت فراہم کر رہا ہے؟ 

2021 میں Apple کی کارکردگی

بلاشبہ Apple اسٹاک کیلئے یہ سال بہترین تھا، وبا اور مہنگائی کے خدشات کے درمیان، اس سال اب تک 40% سے زائد کا منافع حاصل کیا اور اسٹاک ریلی میں سرفہرست رہا۔ اسٹاک اس وقت تقریباً $180 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ $3 ٹریلین کا سنگ میل فی شیئر صرف کچھ اضافی ڈالرز کے فاصلے پر ہے اور تجزیہ کار کہتے ہیں کہ 2022 میں Apple کیلئے $200 کی قیمت کا ہدف بھی کافی محتاط ہوگا۔ درحقیقت، صرف گزشتہ ماہ ہی، کمپنی کا اسٹاک 20% سے اوپر گیا ہے۔ دو مختلف معاملات کا موازنہ کرنے کی جسارت کے ساتھ، اس مدت کے دوران، Nasdaq اور S&P 500 میں بالترتیب 0.20% اور 0.19% کا اضافہ ہوا، جبکہ سونا (XAUUSD) 4% نیچے گیا۔ چاہے آپ کو Apple پسند ہو یا اسے ناپسند کرنا پسند ہو، ان گزشتہ سالوں میں اس کی کارکردگی مثالی رہی ہے اور اس کے کچھ ہی ہم عصر اس سے مقابلہ کرنے کی امید کر سکتے ہیں۔ Microsoft اس سال کے آغاز میں سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں ناگزیر اونچ نیچ کی وجہ سے اس کے کچھ قریب آیا تھا۔ مگر Apple نے ہر قدم پر اسے پیچھے چھوڑا، اس طرح یہ $1 ٹریلین کلب میں شامل ہونے والی پہلی کمپنی اور ساتھ ہی $2 ٹریلین بنانے والی پہلی کمپنی بن گئی، اور اب۔۔۔ آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔ Apple کی جانب سے تازہ ترین مالیاتی اعداد و شمار Q4 2021 میں فی شیئر $1.24 کی کمائیاں ظاہر کرتے ہیں اور آمدنیاں $80 بلین سے زائد جو کہ سال بہ سال کے لحاظ سے تقریباً 30% کی بہتری ہے۔ 

کیا Apple نیا سیف ہیون اثاثہ ہے؟

زیادہ افراط زر کسی کو بھی پسند نہیں ہوتی۔ جب افراط زر قابو سے باہر ہو جاتی ہے تو کمپنیوں کو ادھار کی زیادہ قیمتوں اور ساتھ ہی لیبر اور مینوفیکچرنگ کی زیادہ قیمتوں سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے، یہ ایسی لاگتیں ہیں جو یا تو کمپنی کو خود اٹھانی پڑیں گی یا ان کا بوجھ صارفین پر ڈال دیا جائے گا۔ یقینی طور پر، Apple کو اس کی زیادہ فکر نہیں ہے کیونکہ اس کی پروڈکٹس کا لگژری اسٹیٹس اور ایپس اور آلات کا مہارت سے بنایا گیا ایکو سسٹم مارکیٹ اور ساتھ ہی سپلائر کی قیمتوں کے ایک بڑے حصے پر مشتمل ہے۔ نیز اس کے بجائے، Apple کے اپنی پیشکشوں کی قیمت کو بڑھانا صرف اس کے مخلص مداحوں میں اس کے پریمیئم اسٹیٹس کا اضافہ ہی کرے گا۔ کمپنی مستقل ہائی اینڈ ہارڈ ویئر اور اپنے ذاتی آرم پر مبنی M1 چپ جو کہ نومبر 2020 میں کمپنی کا فریق ثالث چپس پر انحصار کم کرنے کیلئے ایک بولی میں ریلیز کی گئی تھی، اپنی حیران کن کارکردگی اور افادیت کی وجہ سے سیلز اور برانڈ کے بڑھنے کی وجہ بنی۔ Apple ہارڈ ویئر جیسے کہ iPhones، iPads اور iMacs کی ڈیمانڈ میں لاک ڈاؤنز کی وجہ سے صرف اضافہ ہوا ہے اور اس کی سروسز جیسے Apple TV+ سے ہر سال لاکھوں نئے سبسکرائبرز لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بنیادی طور پر، Apple ںہ صرف مالیاتی مارکیٹس کے سب سے اتار چڑھاؤ والے دورانیوں میں انتہائی منافع بخش اور ہم آہنگ ثابت ہوا بلکہ ساتھ ہی ایک بعد از وبا دنیا میں فالو کرنے کیلئے سب سے امید افزا ٹیکنالوجی اسٹاک ثابت ہوا ہے۔ 

بڑھوتری کا امکان

وہ سرمایہ کار جو ایسے اثاثوں میں دلچسپی رکھتے ہیں جن میں مہنگائی سے زیادہ مزاحمت اور ممکنہ طور پر زیادہ منافع ہو انہیں Apple پر ضرور نظر رکھنی چاہیے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں اس کی کارکردگی نے ظاہر کیا ہے کہ غیر یقینی کی صورتحال میں مہنگائی کے خلاف معقول حفاظت کی پیشکش کرتے ہوئے یہ سونے سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ کمپنی کے الیکٹرک گاڑیوں اور خودکار ڈرائیونگ پروجیکٹس اور ساتھ ہی اس کے ورچوئل ریئلٹی کے آلات سے متعلق منصوبوں کے متوقع اعلانات کی وجہ سے Apple کی ترقی کو بھی لامحدود سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم، ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ماضی کی کارکردگی مستقبل کی کامیابی کا اشارہ نہیں ہے۔ کمپنی کا اسٹاک توقعات سے بڑھ کر $200 فی شیئر کی اتفاق رائے سے آگے بھی ریلی کر سکتا ہے، مگر اس سے اوپر کی کوئی بھی قیمت مختصر مدت میں ہو سکتا ہے کہ برقرار نہ رہ سکے۔ نیز Apple نے حال ہی میں اعلان کیا کہ ہے کہ اس کے تازہ ترین iPhone لائن اپ کی ڈیمانڈ کم ہو رہی ہے، جس سے کئی عناصر منسوب ہو سکتے ہیں جیسے سر پر منڈلاتا معاشی بحران، سپلائی کا فقدان، ڈیلیوری میں تاخیر اور ساتھ ہی نیا اومی کرون ویریئنٹ۔

متعلقہ مضامین